Pegham Nijat
اسلام علیکم اس بلوگ پہ آپ تمام اسلامی معلومات تعلیمات اور تبلیغات کے حوالے سے آپ کو بہت کچھ ملے گا نبیوں کے قصے اور انکی سیرت
Sunday, 1 November 2020
Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam
Innocent Sixth Imam IV Hazrat Imam Zainul Abidin (as) Name: Ali (as) Popular Title: Sajjad, Zainul Abidin Surname: Abu Muhammad Parents
Friday, 30 October 2020
Innocent Fifth Imam Third Hazrat Imam Hussain (as) Name: Hussain (as) Popular Title: Sayyid al-Shuhada
Pegham Nijat
Thursday, 29 October 2020
Innocent Fourth Imam Second Hazrat Imam Hassan (as) Name: Hassan (as) Popular Title: Mujtaba, Sibt Akbar
Wednesday, 28 October 2020
Innocent Third Imam First Imam Hazrat Ali (as) Name: Ali (as) Popular Title: Amir al-
![]() |
| Innocent Third Imam First Imam Hazrat Ali (as) Name: Ali (as) Popular Title: Amir al- |
Monday, 26 October 2020
Imamat
Taruf Bi Bi Fatima Zahara
Saturday, 24 October 2020
قرآن مجید کا تعارفTaruf r Quran Majeed
قرآن کریم
قرآن کریم اللّٰہ کا کلام ہے جسے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر 23 برس کی مدت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل فرمایا اور اس کےامین بندے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اسے معجزہ کی حیثیت سے پہچنوایا آج تک قرآن فاتوا بسورۃ من مثلھا کی صدا دے رہا ہے اگر تم قرآن کو معجزہ نہیں مانتے ہو تو اس کی جیسی ایک ہی سورہ بنا کر لاؤ۔ قرآن کریم کی حفاظت کی زمہ داری خداوند عالم نے خود اپنے زمہ لےلی ہے۔ لہٰذا اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ اس قرآن کریم میں کوئی تحریف ہوئی ہے تو ایسا شخص قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتا چونکہ پہلی آسمانی کتب میں علماء یہود ونصاریٰ نے تحریف کیا تھا اس لیے اس سے بچانے کے لئے خدا وند عالم نے اس کی حفاظت کی زمہ داری خود لےلی تحریف سے مراد قرآن میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی یا تبدیلی مراد ہے۔ جس سے قرآن کریم محفوظ ہے آج جو قرآن ہمارے درمیان موجود ہے جو الحمد سے ہوکر والناس پر ختم ہوتا ہے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہمارے ہاتھوں میں سے آیۃ الخوئی کی تحقیق کے مطابق قرآن کی موجودہ ترتیب بھی حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دی ہے کسی بھی آیت کے نازل ہونے پر کاتب کو بلا کر حکم فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں آیت کے بعد لکھنا یوں آج کے موجودہ ترتیب عمل میں آئی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی ان کتب میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے جو کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتب مانی جاتی ہے لیکن ہمیں حضرات اہلبیت نے ایک معیار دیا ہے اور روایات و احادیث کو جانچنے کا میزان یہ قرار دیا ہے کہ احادیث و روایات کو قرآن کریم سے موازنہ کرو اگر قرآن کے مطابق ہے تو درست ہے اگر قرآن کے مخالف ہے تو اسے دیوار پر مارو یعنی اسے رد کرو۔ حضرات معصومین علیہم السلام نے قرآن سے وابستہ رہنے کی تاکید فرمائی کم از دس آیات سے پچاس آیتوں کی تلاوت تک روزانہ تلاوت کی سفارش کی ہے اور فرمایا جو شخص ایک دن میں دس آیتوں کی تلاوت کرےگا اسے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص ایک دن میں پچاس آیتوں کی تلاوت کرےگا اسے ذاکرین بندوں میں شمار کیا جائیگا۔ کسی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا فرزند رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی کتاب سو دو سو سال کے بعد پرانی قرار پاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے لیتی ہے مگر قرآن کے بارے میں ایسا نہیں گزرتے زمانے کے ساتھ اس کی تازگی اور جدت میں اضافہ ہوجاتا ہے آپ نے فرمایا یہ اس لیئے ہے کہ قرآن کریم کو کسی خاص زمانے یا علاقے کے لئے نازل نہیں کیا بلکہ قیامت کے آنے والے زمانے تک رہنما ہے اس لیے اس کلام کے متکلم نے اس کی
تازگی برقرار رکھنے کا انتظام کیا ہے۔
The Holy Qur'an is the word of the Holy Qur'an which was revealed to His last Prophet Muhammad Mustafa (peace be upon him) for the guidance of His servants through Gabriel (peace be upon him) over a period of 23 years. Wislam described it as a miracle. To this day, the Qur'an is sounding like a fatwa and a surah like this. If you do not believe in the Qur'an as a miracle, then make a single surah like it. God Almighty has taken the responsibility of protecting the Holy Qur'an. Therefore, if someone says that there is any distortion in the Holy Qur'an, then such a person does not believe in the Holy Qur'an because the scholars of Judaism and Christianity distorted it in the first heavenly books. Responsibility for protection refers to any distortion or alteration in the Qur'an. From which the Holy Qur'an is safe. The Qur'an which is present among us today, which ends with praise and obedience to the people, is safe from all kinds of distortions. According to the research of Ayat-ul-Khoi from our hands, He used to call the scribe on the revelation of any verse and order him to write this verse after such and such a verse. Unfortunately, this is also found in the books of the Muslims which are considered to be the most correct books after the Book of God, but the Ahl al-Bayt has given us a standard and the scale of examining the traditions and hadiths is that the hadiths and traditions Compare it with the Holy Qur'an. If it is in accordance with the Qur'an, then it is correct. If it is against the Qur'an, then hit it on the wall, that is, reject it. The Infallibles (peace be upon them) insisted on adhering to the Qur'an and recommended daily recitation of at least ten verses to fifty verses and said that whoever recites ten verses in one day will not be written in heedlessness and whoever He will recite fifty verses in one day and he will be counted among the dhikr servants. Someone asked Imam Ja'far Sadiq (as), son of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). It is a fact that any book becomes obsolete after one hundred and two hundred years and is replaced by another book except the Qur'aan. I do not think so. With the passage of time, its freshness and innovation increases. You said that it is because the Holy Qur'an was not revealed for a particular time or region, but it is a guide to the time to come. The speaker has managed to keep it fresh.
Friday, 23 October 2020
Ahelbait e Rasool
اھلبیت علیھم السلام
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے وفات کے ایک وقت مشہور حدیث ارشاد فرمائی کہ میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللّٰہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اہلبیت۔ اگر تم ان دونوں سے وابستگی رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہونگے۔ میری عترت یعنی اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کے حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔ پس تم دیکھو کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔
اس حدیث کے مطابق رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صحیح پیروی اہلبیت کی پیروی میں پوشیدہ ہے اہلبیت کے لفظی معنی ہے گھر والے لیکن اسلامی اصطلاح میں اہلبیت سے مراد وہ پانچ افراد ہیں جو چادر کے نیچے پیغمبر کے حکم سے جمع ہوئے تو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی تھی کہ:
ترجمہ : میرے معبود یہی میرے اہلبیت ہیں میرے خاص ہیں میری حمایت کرنے والے ان کا گوشت میرا گوشت اور ان خون میرا خون ہے۔ کساء کے اس واقعہ کے بعد عام مسلمانوں کے نزدیک اہلبیت سے مراد یہ پانچ افراد ہیں جو اس چادر کے نیچے تھے ان کو پنجتن پاک اور اہل کساء بھی کہتے ہیں کیونکہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی یہ دعا دیکھ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ نے آکر اجازت چاہی تھی کہ اللّٰہ کے حبیب مجھے بھی چادر کے نیچے آنے کی اجازت دے دیں لیکن حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں چادر کے نیچے آنے کی اجازت نہیں دی۔
ام سلمہ تیرا انجام ہے بہتر لیکن
آگئے چادر تطہیر میں آنے والے
اصطلاحی اور لغوی معنی سمجھنے کے لیے ان مثالوں پر غور کریں صلوٰۃ کے عربی میں لغوی معنی دعا کی ہے صوم کی معنی رک جانے کی ہے اور حج کی معنی اردہ کرنے کی ہے لیکن اصطلاح میں نو چیزوں کا پےدرپے خاص ترتیب سے بجالانے کا نام صلوٰۃ ہے جسے ہم عجمی زبان میں نماز کہتے ہیں۔ ماہ رمضان کے مہینے میں اذان فجر سے لیکر مغرب ہونے تک نو چیزوں سے اپنے آپ کو روکنے کا نام صوم ہے جسے ہم روزہ کے نام سے جانتے ہیں اسی طرح اصطلاح میں حج کے معنی خانہ کعبہ میں جاکر مقررہ مناسک بجالانے کا نام حج ہے اس طرح اہلبیت کے لغوی معنی الگ ہے اور اصطلاحی معنی میں صرف وہی افراد ہیں جو چادر کے نیچے تھے اور جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی۔
چہاردہ معصومین علیہم السلام سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم، حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا، اور بارہ امام مراد ہیں ان میں سے پیغمبر اکرم
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا، حضرت علی علیہ السلام اور حضرات حسنین علیھم السّلام چادر کے نیچے آیت تطہیر کے مصداق ہیں اور معصوم ہیں اور بارہ آئمہ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نص کے مطابق معصوم پہچنوائے گئے ہیں۔
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور حدیث بھی ارشاد فرمائی کہ میں تمہارے درمیان اللّٰہ کی کتاب اور سنت چھڑے جارہاہوں تم ان دونوں سے تمسک رکھنا اور رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی سنت کو بیان کرنے والے اہلبیت ہی ہیں کیونکہ گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں کہ گھر میں کیا ہورہاہے لہٰذا جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہلبیت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں وہی کامیاب ہیں۔
Thursday, 22 October 2020
Taruf Ashab e Rasool
اصحاب رسول
جب حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا نام آتا ہے تو آپ کے ساتھ دو اور اصطلاحی نام ہمارے نظروں کے سامنے آتے ہیں یعنی آپ کےاصحاب اور آپ کی اہلبیت۔
صحابہ است یاران و آل اھلبیت
کہ اسلام دین شد ازیشان بپا
اصحاب سے مراد آپ کے ساتھی اور آل سے مراد آپ کے اہلبیت ہیں۔ دین اسلام انہی دونوں پلرز کے ذریعے ہی دنیا میں قائم ہوگیا۔
صحابی کے معنی ساتھی ہیں لیکن اسلامی اصطلاح میں صحابی سے مراد وہ شخص ہے جس نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ پر ایمان لایا آپ کا ساتھ دیا اور ایمان پر ہی وفات ہوگئی ہو اصحاب کے بھی درجات ہیں ان میں سے:
1۔ سابقین اولین
2۔ مہاجرین اولین
3۔ عشرہ مبشرہ
4۔ اور طلقاء کی اصطلاحات اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں جن کے ذریعے صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے۔ اصحاب رسول میں سب سے نچلے درجہ طلقاء کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان کے سابقہ جرائم کو معاف کر تے ہوئے فرمایا آج کے دن تمہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی آج کے دن سے تم آزاد ہو۔ ان لوگوں میں ابو سفیان اور ان کے ہمنوا سر فہرست ہیں ان لوگوں کی اکثر زندگی اسلام کی مخالفت میں گزری تھی اور آخری مرحلے میں اسلام قبول کر کے اپنی جان تو بچالی لیکن اسلام کی حقیقی روح سے آشنا نہ ہوسکے۔ ابوسفیان کے بیٹے معاویہ نے خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کی اور اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کے سروں پر مسلط کیا اور مسلمانوں کی خلافت راشدہ کا گلا گھونٹ کر ملوکیت کی داغ بیل ڈال دی اور ان کے بیٹے یزید نے جب اپنے آپ کو مطلق العنان دیکھا تو نواسہ رسول حسین ابنِ علی کے قتل کا حکم دیا جس پر عملدرآمد بھی ہوگیا اور عمر ابن سعد یزید کی طرف سے اس فوج کا سپہ سالار تھا عمر سعد نے امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے حسینی لشکر کی طرف تیر پھینکا اور کہا لوگو! گواہ رہنا کہ میں سب سے پہلا تیر پھینک رہا ہوں۔ ایک عجیب اتفاق ہے اسی عمر بن سعد کے والد حضرت سعد بن ابی وقاص تھے جنہوں نے اسلام اور رسول کی حمایت کرتے ہوئے کافروں کے لشکر کی طرف سب سے پہلے تیر پھینکا تھا۔
آج ملوکیت نے مسلمانوں کی اتنی دنیا بدل دی تھی کہ ان کا بیٹا عمر بن سعد حسین علیہ السلام کی طرف تیر اندازی کر رہا تھا اور لوگوں کو گواہ بنا رہا تھا کہ میں نے سب سے پہلے تیر پھینکا ہے۔ حسین علیہ السلام وہ جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسن و حسین علیہ السلام جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ حسن و حسین علیہم السلام امام ہیں چاہے قیام کریں یا بیٹھے رہیں۔
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی صحابی کو بلند مقام دینا چاہا تو فرمایا کہ سلمان تو ہم اہلبیت میں سے ہیں۔
یعنی حضرت سلمان فارسی صحابی تو تھے ہی جب حضرت سلمان فارسی کے خلاف شکایت کی تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم سلمان فارسی کی شکایت کرتے ہو سلمان فارسی تو ہم اہلبیت میں سے ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی جملے سے اصحاب اور اہلبیت کے مقام کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔
Solangi
Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam
Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud...







No comments:
Post a Comment