My Page

 

Pegham Nijat

Sunday, 1 November 2020

Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam

Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam 
7


Pegham Nijat


معصوم ہفتم امام پنجم

حضرت محمد باقر علیہ السلام

نام:
محمد

مشہور لقب:
باقر العلوم

کنیت:
ابو جعفر

والدین کرام:
امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت فاطمہ بنت امام حسن علیہ السّلام

جائے ولادت:
مدینہ منورہ

تاریخ ولادت:
1 رجب 57 ہجری

امامت کی مدت:
تقریباً 20 سال

تاریخ شہادت:
7 ذی الحجہ 114 ہجری

عمر مبارک:
57 سال

جائے شہادت:
مدینہ منورہ

روضہ مبارک:
جنت البقیع

آپ کی زندگی کے ادوار:
1۔ ساڑھے تین سال اپنے دادا حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ۔
2۔ 34 سال اپنے پدر بزرگوار امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ۔
3۔ تقریباً 20 سال آپ کی امامت کی مدت ہے۔

تعارف

آپ کا نام محمد اور لقب باقر، شاکر ہیں ان القاب میں سے باقر العلوم بہت مشہور ہوا آپ نے ہی مختلف علوم کی حدود مقرر کرتے ہوئے مختلف علمی شعبوں کو واضح کیا جیسے تاریخ، فقہ، ریاضی، کیمسٹری، اور فزکس وغیرہ۔ اور آپ کی کنیت ابو جعفر ہے بعد میں انہی خطوط پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شاگردوں کو تربیت کی۔
آپ کے والد گرامی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور آپ کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ بنت حسن ابن علی علیہ السلام تھی آپ نے ماہ رجب کی پہلی تاریخ 57 ہجری میں مدینہ منورہ میں ولادت پائی آپ ماں باپ دونوں کی طرف سے ہاشمی اور علوی ہیں۔
آپ کی ولادت کے وقت معاویہ ابن ابوسفیان کا دور تھا اور معاویہ کے بعد یزید لعین کی حکومت دیکھی اور اس کے مرنے کے بعد معاویہ بن یزید لعین اور مروان کی حکومت دیکھی آپ نے عبد الملک اور مروان کی حکومت کا دور دیکھا نیز ولید و سلیمان بن عبد الملک کے دور کو بھی دیکھا 97 ہجری میں عبد العزیز بن عمر کی حکومت قائم ہوئی۔ ان کے منصفانہ روش کی قوم برداشت نہ کر سکی اور اس طرح ان کا بھی دور جلد ختم ہو گیا۔ عمر بن عبد العزیز کے بعد یزید بن عبد الملک بنا اور 105 ہجری میں ہشام بن عبد الملک کی حکومت قائم ہوئی اور اسی نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا

آپ نے بچپن کے ساڑھے تین سال تک اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد 38 سال اپنے پدر بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ گزارے اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد 19 سال تک امامت کے منصب پر فائز رہے آپ کے امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی جابر بن عبداللہ انصاری کو اپنے جانشین کے نام بتائے تو آپ کا نام لے کر فرمایا: میرے اس وارث سے تمہاری ملاقات ہوگی اور جب ملاقات ہوتو میرا سلام ان تک پہچانا۔ ایک دن حضرت امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جارہے تھے تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام پہنچایا۔
آپ کی ازواج اور اولاد کی تفصیل یوں ہے۔
آپ کی سات اولاد ہیں:
1۔ امام جعفر صادق علیہ السلام
2۔ حضرت عبداللہ
( ان دونوں کی والدہ حضرت فاطمہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابوبکر تھیں)
3۔ ابرہیم
4۔ عبداللہ
(ان دونوں کی والدہ ام حکیم بنت اسد بن مغیرہ ثقفی تھیں)
5۔ علی
6۔ زینب
( ان دونوں کی والدہ ام ولد تھیں)
7۔ ام سلمہ
(ان کی والدہ بھی ام ولد تھیں)
آپ نے 7 ذی الحجہ 114 ہجری کو ہشام لعین کے زہر کی وجہ سے مدینہ منورہ میں شہادت پائی۔


Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam Hassan (peace be upon him) Place of Birth: Madinah Duration of: Approximately 20 years Date of Martyrdom: 7 Dhul-Hijjah 114 AH Age Mubarak: 57 years Place of Martyrdom: Madinah Roza Mubarak: Janat Al-Baqi Periods of your life: 1. With his grandfather Hazrat Imam Hussain (as) for three and a half years. 2. 34 years with his father Imam Sajjad (as). 3. The period of your leadership is about 20 years.

Introduction Your name is Muhammad and your title is Baqir. Thank you. Among these titles, Baqir-ul-Uloom became very famous. And his surname is Abu Ja'far. Later, Imam Ja'far Sadiq (as) trained his disciples on the same lines. His father was Hazrat Imam Zainul Abidin (as) and his mother was Hazrat Fatima bint Hassan Ibn Ali (as). He was born on the first day of the month of Rajab in 57 AH in Madinah. ۔ At the time of his birth there was the reign of Mu'awiyah Ibn Abu Sufyan and after Mu'awiyah he saw the reign of Yazid Lain and after his death he saw the reign of Mu'awiyah bin Yazid Lain and Marwan. You saw the reign of Abdul Malik and Marwan We also look at the time of Bin Abdul Malik. In 97 AH, the government of Abdul Aziz bin Umar was established. The nation could not stand his fairness and thus his era also ended soon. After Umar bin Abdul Aziz, Yazid bin Abdul Malik was formed and in 105 AH the government of Hisham bin Abdul Malik was established and he poisoned him and martyred him.

He spent three and a half years of his childhood with his ancestor Hazrat Imam Hussain (as). After Hazrat Imam Hussain (as) he spent 38 years with his father Imam Zain-ul-Abidin (as) and after the martyrdom of Hazrat Imam Zain-ul-Abidin (as). He held the position of Imamate for 19 years. One of his privileges is that the Holy Prophet (sws) mentioned the name of his successor to his Companion Jabir bin Abdullah Ansari and said: You will meet and when you meet, send my greetings to them. One day Imam Muhammad Baqir (as) was going with Imam Sajjad (as) and he greeted the Holy Prophet (sws) according to the order of the Holy Prophet (sws). Here is the description of your spouse and children. You have seven children: 1. Imam Jafar Sadiq (as) Hazrat Abdullah (His mother was Hazrat Fatima Umm Farwah bint Qasim bin Muhammad bin Abu Bakr) Abraham 4. Abdullah (Their mother was Umm Hakim bint Asad bin Mughira Thaqafi). Ali 6. Zainab (their mother was Umm Walid) Umm Salma (her mother was also Umm Walid) was martyred in Madinah on 7 Dhul-Hijjah 114 AH due to the poison of Hisham Lain.



Innocent Sixth Imam IV Hazrat Imam Zainul Abidin (as) Name: Ali (as) Popular Title: Sajjad, Zainul Abidin Surname: Abu Muhammad Parents

Pegham Nijat




معصوم ششم امام چہارم

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

نام:
علی (علیہ السلام)

مشہور لقب:
سجاد، زین العابدین

کنیت:
ابو محمد

والدین کرام:
حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت شہر بانو

جائے ولادت:
مدینہ منورہ

تاریخ ولادت:
5 شعبان 38 ہجری

تاریخ شہادت:
25 محرم 95 ہجری

جائے شہادت:
مدینہ منورہ

روضہ مبارک:
جنت البقیع میں ہے

آپ کی زندگی کے ادوار:
1۔ 22 سال اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ
2۔ اور آپ کی امامت کا زمانہ 53 سال 

آپ نے 9 اموی طاغوتی حکمرانوں کا زمانہ دیکھا یزید لعین سے ہشام بن عبد الملک تک

تعارف

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام آپ کا نام علی القاب زین العابدین، سید الساجدین ہیں آپ کے والد گرامی حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام اور والدہ گرامی حضرت شہر بانو تھیں جنہیں شاہ زنان بھی کہا جاتا ہے۔
آپ نے 5 شعبان 38 ہجری میں مدینہ منورہ میں ولادت پائی آپ واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ ہیں واقعہ کربلا کے بعد آپ کی عمر تقریباً 22 سال یا 23 سال تھی آپ نے اپنے زندگی کے دو سال اپنے دادا حضرت علی ابن ابو طالب کے زیر سایہ زندگی گزارے آپ کی شہادت کے بعد اپنے والد بزرگوار اور عم نامدار کے ساتھ رہے امام حسن کی شہادت کے بعد اپنے والد گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے اور سن 61 ہجری کے بعد آپ نے منصب امامت سنبھالا جس کی مدت 34 سال ہے آپ نے اپنی دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ کاملہ یادگار چھوڑی جس میں علم و معرفت کے خزانے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے اہلبیت کے قافلے کے ساتھ شام تک کا سفر کر کے مدینہ پہنچے اور بڑے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
تاریخ میں آپ کی مختلف ازواج کا ذکر ملتا ہے لیکن ان سب سے نمایاں حضرت فاطمہ بنت حسن ہے ان کے علاوہ ام ولد ہیں آپ کی اولاد میں گیارہ بیٹوں اور چار بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔
1۔ امام محمد باقر علیہ السلام
2۔ عبداللہ
3۔ حسن
4۔ زید
5۔ عمر
6۔ حسین
7۔ عبد الرحمن
8۔ سلیمان
9۔ علی
10۔ محمد اصغر
11۔ حسین
اور بیٹیوں کے نام یوں ہیں:
1۔ خدیجہ
2۔ فاطمہ
3۔ علیہ
4۔ ام کلثوم
آپ کی اولاد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے بعد حضرت زید شہید کا نام مشہور ہے ہشام کے مظالم سے تنگ آکر 122 ہجری کو 40 ہزار ساتھیوں کے ساتھ قیام کیا حضرت امام ابو حنیفہ نے آپ کی بعیت کی لیکن حکومت وقت نے انہیں ”امام اعظم“ کا لقب دے کر انہیں توڑ دیا۔ ولید بن عبد الملک نے آپ کو زہر دیا جس کے اثر سے 25 محرم 95 ہجری میں آپ نے شہادت پائی۔
دربار میں آپ کے خطبے اموی حکومت کے زوال کا سبب بنے۔
آپ کے خطبات کے علاؤہ آپ کی دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ کاملہ کے نام سے مشہور ہے جسے زبور آل محمد بھی کہتے ہیں توحید اور خدا کی معرفت کے حصول کے لیے ایک بحرذخار ہے۔







Innocent Sixth Imam IV Hazrat Imam Zainul Abidin (as) Name: Ali (as) Popular Title: Sajjad, Zainul Abidin Surname: Abu Muhammad Parents: Hazrat Imam Hussain (as) and Hazrat Shehr Bano Place of Birth: Medina Date of Birth: 5 Sha'ban 38 AH Date of Martyrdom: 25 Muharram 95 AH Place of Martyrdom: Madinah Munawwara Roza Mubarak: Janat al-Baqi is in your life: 1. 22 years with his father. And the period of your Imamate was 53 years. You saw the time of 9 Umayyad Taghut rulers from Yazid Lain to Hisham bin Abdul Malik.

Introduction Hazrat Imam Zain-ul-Abidin (PBUH) His name is Ali Zain-ul-Abidin, Syed Al-Sajdeen. His father was Hazrat Imam Hussain Ibn Ali (PBUH) and his mother was Hazrat Shahr Bano who is also called Shah Zanan. He was born in Madinah on 5 Sha'ban 38 AH. He is an eyewitness to the incident of Karbala. After the incident of Karbala, he was about 22 years or 23 years old. He lived with his father after his martyrdom. After the martyrdom of Imam Hassan, he lived with his father, Imam Hussain (as). After 61 AH, he assumed the position of Imamate for a period of 34 years. Yes, you have left a complete collection of your prayers, Sahifa Kamil Yadgar, which contains treasures of knowledge and cognition. After the martyrdom of Imam Hussain (as), he traveled to Madinah with the caravan of Ahl al-Bayt and reached Madinah and lived a life of great hardship. There are mentions of his various marriages in history but the most prominent of them is Hazrat Fatima bint Hassan. Apart from her, she has a son. Her children include eleven sons and four daughters. 1. Imam Muhammad Baqir (as) Abdullah 3. حسن 4۔ زید 5۔ Age 6. Hussain 7. Abdul Rahman 8. Solomon 9 Ali 10. Muhammad Asghar 11. The names of Hussain and his daughters are as follows: Khadija 2. Fatima 3. Against 4. Umm Kulthum, after her descendants Hazrat Imam Muhammad Baqir (as), the name of Hazrat Zaid Shaheed is famous. Fed up with Hisham's atrocities, he stayed in 122 AH with 40,000 companions. Hazrat Imam Abu Hanifa betrayed him but He broke them by giving the title of "Imam Azam". Waleed bin Abdul Malik poisoned him and as a result he was martyred on 25 Muharram 95 AH. Your sermons at the court caused the downfall of the Umayyad government. In addition to your sermons, your collection of prayers is known as the perfect scripture, also called the Psalms of Muhammad, which is a source of monotheism and knowledge of God.





Friday, 30 October 2020

Innocent Fifth Imam Third Hazrat Imam Hussain (as) Name: Hussain (as) Popular Title: Sayyid al-Shuhada


Pegham Nijat

معصوم پنجم امام سوم

حضرت امام حسین علیہ السلام

نام:
حسین ( علیہ السلام )

مشہور لقب:
سید الشہداء

کنیت:
ابا عبد اللہ

والدین کرام:
حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

جائے ولادت:
مدینہ منورہ

تاریخ ولادت:
3 شعبان 4 ہجری

جائے شہادت:
کربلا معلی

تاریخ شہادت:
10 محرم الحرام 61 ہجری

عمر مبارک:
57 سال

امامت کی مدت:
10 سال

روضہ مبارک:
کربلا معلی عراق میں ہے

آپ کی زندگی کے ادوار:
1۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر سایہ 6 سال
2۔ اپنے والد گرامی کے زیر سایہ 30 سال
3۔ اپنے بھائی گرامی کے ساتھ 10 سال
4۔ آپ کی امامت کا زمانہ 10 سال

تعارف
 
حضرت امام حسین علیہ السلام 
آپ کا اسم گرامی حسین علیہ السلام ہے عبرانی میں اس کی معنی شبیر کے مترادف ہے آپ کے والد گرامی مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہے امام حسین علیہ السلام نے باپ جا جہاد اور ماں کا ایثار وراثت میں پایا تھا آپ نے 3 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ولادت پائی آپ کے القاب میں اب عبد اللہ، سید الشہداء، قتیل العبرا، سردار جوانان جںت( سید الشباب اہل الجنہ)، سید سبط اصغر مشہور ہیں۔
جب آپ کی ولادت کی خبر جبرائیل نے دی تو تہنیت کے ساتھ تعزیت بھی کی اور آپ کی شہادت کی خبر بھی سنائی جسے سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روئے اس طرح حضرت امام حسین علیہ السلام کےغم میں رلانے والا پہلا فرد جبرائیل امین اور رونے والا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں دوسری دفعہ مجلس قائم ہوئی اس میں شہادت کا ذکر کرنے والے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور رونے والے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تھے۔

مورخین نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی پانچ ازواج کا ذکر کیا ہے ۔
1۔ شہر بانو جنہیں شاہ زنان بھی کہا جاتا ہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی والدہ ہے۔
2۔ لیلی بنت ابو مرہ بن عروہ بن مسعود آپ جناب علی اکبر کی والدہ ہے کربلا کے واقعات میں آپ کا تذکرہ ملتا ہے۔
3۔ جناب رباب بنت امراء القیس آپ جناب علی اصغر اور جناب سکینہ کی والدہ ہے آپ کربلا میں موجود تھی اور کربلا میں امام علیہ السلام کی شہادت کےبعد آپ کے لاشے کو دھوپ میں دیکھ کر یہ عہد تھا کہ کبھی سائے میں نہیں بیٹھیں گی۔
4۔ قضاعیہ ۔ آپ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام جعفر بتایا جاتا ہے۔
5۔ ام اسحاق بنت طلحہ یہ حضرت فاطمہ کی ماں ہے جن کا عقد امام حسن علیہ السلام کے بیٹے حضرت مثنی سے ہوا تھا۔
بعض مورخین نے چھ فرزندوں کا ذکر کیا ہے دو نام محمد اور عبد اللہ کا ذکر کیا ہے اور بعض مورخین نے آپ کے تین بیٹیوں کا ذکر کیا ہے جن کا نام زینب بتایا جاتا ہے آپ نے امیر المومینین کے پچیس سالہ دور کو دیکھا اور فتنوں جا نیا دور بھی دیکھا جن کا مقابلہ آل محمد کو کرنا تھا حضرت امیر المومینین کے خلافت کے دوران 35 ہجری میں جنگ جمل کا واقعہ بھی پیش آیا اس وقت امام حسین علیہ السلام کی عمر 30 سال سے زیادہ تھی آپ نے جنگ میں حصہ لیا لیکن علی ابن ابو طالب علیہ السلام نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت قرار دے کر میدان میں نہیں بھیجا جمل کے بعد 36 ہجری جو جنگ صفین کا واقعہ دیھکا اور اس کے بعد نہروان کی جنگ واقع ہوئی امام حسن علیہ السلام کے امیر شام کے ساتھ صلح کے احترام میں ان تمام کو برداشت کیا 50 ہجری میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے امامت کا منصب سنبھالا اس دوران بھی شدید مظالم اور بد ترین عہد شکنی کے باوجود امام حسن علیہ السلام کی صلح کا احترام کیا یہاں تک کہ رجب 60 ہجری میں معاویہ مر گیا اور اپنے بیٹے یزید لعین کو اپنا جانشین بنایا مرتے وقت معاویہ نے وصیت کیا تھا کہ امت کے چند افراد خطرناک ہیں جن میں عبد اللہ بن عمر نے یزید لعین کی اطاعت کا اعلان کیا اور عبد اللہ بن زبیر نے راہ فرار اختیار کی

اور اسلامی اقدار کی حفاظت کےلئے امام حسین علیہ السلام میدان میں اکیلےرہ گئے مدینہ کے گورنر نے آپ سے یزید لعین کی بعیت کا مطالبہ کیا تو آپ نے اعلان کیا کہ میں فرزند رسول ہوں یزید لعین شرابی اور جواری ہے مجھ جیسا انسان یزید لعین جیسے فاسق و فاجر کی بعیت نہیں کر سکتا اس کے بعد آپ پر مظالم کا ایک نیا دور شروع ہوگیا اور 28 رجب 60 ہجری جو مدینہ چھوڑا تیسری شعبان کو مکہ مکرمہ پہنچے اسی طرح جب حج کا زمانہ آگیا تو یزیدی لعین سپاہیوں نے احرام میں اسلحہ چھپاکر آپ کے قتل کی سازش کی آپ نے حج کو عمرہ میں بدل کر عراق کی طرف سفر کیا اور 2 محرم کو کربلا پہنچے 5 محرم سے آب فرات پر یزیدی افواج کا قبضہ ہوا 7 محرم سے آپ اہلبیت پر پانی پابند کر دیا گیا صبح عاشور سے لیکر عصر عاشور تک حسین علیہ السلام کے 72 مخلص ساتھیوں اور یزیدی لشکر کے 30 ہزار فوجیوں سے مقابلہ ہوا اور عصر تک امام حسین کے مخلص ساتھی اللہ کی راہ میں قربان ہوگئے اور عصر کے وقت امام حسین علیہ السلام یکہ و تنہا رہ گئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سجدے کی حالت میں شہید ہوگئے خیموں میں آگ لگادی اور اہل حرم کو لوٹ لیا اسیر بناکر کوفہ اور شام تک لے گئے۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
اک ضرب ید الہی ایک سجدہ شبیری

آپ کے خطبات دعاؤں اور خطوط کا مجموعہ کتاب کی صورت میں موجود ہے جس سے اس زمانے کے معاشرتی حالات اور مسلمانوں کے انحطاط کا اندازہ ہوتا آپ کی دعاؤں میں دعائے عرفہ ممتاز ہے جس میں فنا فی اللہ کی جھلک نظر آتی ہے۔



Pegham Nijat




Innocent Fifth Imam Third Hazrat Imam Hussain (as) Name: Hussain (as) Popular Title: Sayyid al-Shuhada Nickname: Aba Abdullah Parents: Hazrat Imam Ali (as) and Hazrat Fatima Zahra (as) Place of Birth: Medina Date of Birth: 3 Sha'ban 4 AH Place of Martyrdom: Karbala Ma'ali Date of Martyrdom: 10 Muharram 61 Hijri Omar Mubarak: 57 years Imamate period: 10 years Holy Shrine: Karbala Ma'ali is in Iraq Periods of your life: 1. 6 years under the shadow of the Holy Prophet (PBUH) 30 years under the shadow of his father Grami 3. 10 years 4 with his brother Grami. Your tenure is 10 years

Introduction of Hazrat Imam Hussain (as) Your name is Grami Hussain (as) In Hebrew it means Shabbir. He inherited the jihad of his father and the selflessness of his mother. He was born in Madinah on 3 Sha'ban 4 AH. Asghar is famous. When Gabriel announced the news of his birth, he offered his condolences and the news of his martyrdom. The Holy Prophet (sws) wept when he heard this. And the weeping is the Holy Prophet (sws). Similarly, for the second time in the grief of Hazrat Imam Hussain (as), a meeting was held in which the Holy Prophet (sws) mentioned the martyrdom and Fatima Zahra was peace be upon her.

Historians have mentioned five wives of Imam Hussain (as). 1. Shehr Bano, also known as Shah Zanan, is the mother of Imam Zainul Abidin (as). 2. Laila bint Abu Marah bin Arwa bin Masood is the mother of Ali Akbar. You are mentioned in the events of Karbala. 3. Mr. Rabab bint Amra Al-Qais is the mother of Mr. Ali Asghar and Mr. Sakina. She was present in Karbala and after the martyrdom of Imam (as) in Karbala, seeing her body in the sun, it was a pledge that she would never sit in the shade. 4. قضاعیہ۔ You had a son named Jafar. 5. Umm Ishaq bint Talha is the mother of Hazrat Fatima who was married to Hazrat Muthanna, the son of Imam Hassan (as). Some historians have mentioned six sons, two names Muhammad and Abdullah and some historians have mentioned your three daughters named Zainab. You have seen the twenty-five year reign of Amir al-mu'minin and the tribulations. We also saw a new era that the family of Muhammad had to face. During the caliphate of Hazrat Amir al-Mu'minin, the battle of Jamal took place in 35 AH. At that time, Imam Hussain (as) was more than 30 years old. Ali Ibn Abu Talib (peace be upon him) did not send the Prophet of Islam (peace be upon him) to the field as a trust and after the sentence 36 AH which saw the battle of Safin and after that the battle of Nehruwan took place. After the martyrdom of Imam Hassan (as) in 50 AH, he assumed the position of Imamate. During this time, he respected the peace of Imam Hassan (as) in spite of severe atrocities and the worst breach of covenant. Even Mu'awiyah died in Rajab 60 AH and he made his son Yazid Lain his successor. That some people of the ummah are dangerous in which Abdullah ibn Umar declared obedience to Yazid the accursed and Abdullah ibn Zubayr fled


And Imam Hussein (as) was left alone in the field to protect Islamic values. The governor of Madinah asked him to swear allegiance to Yazid Lain. He could not swear allegiance to Fajr. After that, a new era of atrocities began against him. He converted Hajj into Umrah and traveled to Iraq. He reached Karbala on 2nd Muharram. From 5th Muharram, the Euphrates was captured by Yazidi forces. By the time of Ashour, Hussein's 72 loyal companions and 30,000 soldiers of the Yazidi army fought and until Asr, Imam Hussein's sincere comrades were sacrificed in the way of Allah. While fighting on the way, they were martyred in prostration. They set fire to the tents and looted the people of the sanctuary. Taken to Allah, Allah, Bismillah, Father, meaning the great slaughter of the son of Islam at the foot of Islam, and what else is there? A multiplication of God, a prostration of Shabbir. The decline of the Muslims can be gauged. In your prayers, the prayer of 'Arafah is prominent in which there is a glimpse of annihilation per Allah.



Thursday, 29 October 2020

Innocent Fourth Imam Second Hazrat Imam Hassan (as) Name: Hassan (as) Popular Title: Mujtaba, Sibt Akbar

Pegham Nijat





معصوم چہارم امام دوئم

حضرت امام حسن علیہ السلام

نام:
حسن (علیہ السلام)

مشہور لقب:
مجتبیٰ، سبط اکبر

کنیت:
ابو محمد

تاریخ ولادت:
15 رمضان المبارک 3 ہجری

والدین کرام:
حضرت امام علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا

جائے ولادت:
مدینہ منورہ

تاریخ شہادت:
28 صفر 50 ہجری

سبب شہادت:
جعدہ بنت اشعت ملعونہ کے ذریعے آپ کو زہر دیا گیا

عمر مبارک:
47 سال

روضہ مبارک:
جنت البقیع میں ہے

جائے شہادت:
مدینہ منورہ
تعارف

آپ کا نام حسن ہے جس کی معنی عبرانی میں شبر ہے آپ کی کنیت ابو محمد اور آپ کے القاب میں تقی، ولی، سید، سبط رسول، ذکی ہے
آپ نے پندرہ رمضان المبارک کو مدینہ منورہ میں ولادت پائی اور مملکت اسلامی کے سربراہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، ایران میں ایزد گرد، روم، عراق اور شام میں قیصر روم کی حکومت تھی اور افریقہ میں نجاشی بادشاہ تھا آپ نے 28 صفر کو وفات پائی آپ کی عمر مبارک 46 سال 7 مہینے بنتی ہے
اپنے نانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات سال سات ماہ اپنے والد علی مرتضیٰ کے ساتھ 37 سال بشمول سایہ شفقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، بعد شہادت علی تقریباً 10 سال (9 سال 7 مہینے) اور آپ کی مدت امامت 9 سال 7 مہینے ہے۔

آپ نے 9 خواتین سے شادی کی:
1۔ حضرت ام فروہ
2۔ حضرت خولہ بنت منظور فرازی
3۔ حضرت ام بشیر بنت ابی مسعود
4۔ حضرت زن ثقیفہ
5۔ حضرت رملہ
6۔ حضرت ام الحسن
7۔ حضرت بنت امر القیس
8۔ جعدہ بنت اشعت
9۔ حضرت ام اسحاق بنت طلحہ
آپ کی اولاد کی تعداد 15 ہے 8 بیٹے اور 7 بیٹیاں جس کے نام یوں ہیں:
1۔ عبداللہ بن حسن
2۔ عمر بن حسن
3۔ قاسم بن حسن
4۔ عبد الرحمن بن حسن
(ان چاروں کی والدہ ام ولد تھیں)
5۔ زید بن حسن
6۔ ام الحسن بنت حسن
7۔ ام الحسین بنت حسن
(ان تینوں کی والدہ ام بشیر بنت ابو مسعود بن عقبہ بن ثعلبہ حزرجی تھیں)
8۔ حسن بن حسن
(ان کی والدہ خولہ بنت منظور فرازی تھیں)
9۔ حسین بن حسن (لقب اثرم)
10۔ طلحہ بن حسن
11۔ فاطمہ بنت حسن
(ان کی والدہ ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ تھیں)
12۔ ام عبداللہ بنت حسن
13۔ فاطمہ بنت حسن
14۔ ام سلمہ بنت حسن
15۔ رقیہ بنت حسن


زندگی کے ادوار:
1۔ 8 سال تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرتربیت رہے ہیں
2۔ اپنے والد گرامی کے ساتھ 37 سال
3۔ آپ کی امامت کا زمانہ دس سال ہے
حضرت امام حسن علیہ السلام کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ امیر شام معاویہ کے ساتھ صلح کرنا۔ صلح کی ان شرائط کے ذریعے امیر شام کے کردار اور اس اسلام کی حقیقت کو اسلامی تاریخ میں ثبت کر دیا۔ اس صحل نامے کی شرائط یہ ہیں:
1۔ امیر المومنین علی علیہ السلام پر سب و وشتم کو بند کردیا جائے (سب وشتم برے الفاظ یعنی گالی گلوچ کرنا)
2۔ حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں کو امان دی جائے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا (یہ طبری میں بھی ہے)
3۔ ہر حقدار کو اس کا حق پہنچایا جائے گا
4۔ حکومت معاویہ کے ہاتھ رہے گی بشرطیکہ وہ کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرے
5۔ معاویہ اپنے کو امیر المومنین نہیں کہلوائے گا 
6۔ کوفہ کا بیت المال امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ رہے گا
7۔ امام حسن، امام حسین، اور اہلبیت کے خانوادہ کو کسی طرح کی اذیت نہیں دی جائے گی
8۔ معاویہ کو کسی کو ولی عہد نامزد کرنے کا حق نہیں ہوگا
9۔ معاویہ کے پاس شہادتوں کا قیام نہ ہوگا
10۔ معاویہ سالانہ دس لاکھ درہم ادا کرےگا (جوہرۃ الکلام)
11۔ اہواز کا خراج، جنگ جمل، اور جنگ صفین کے مقتولین کی اولاد کو دیا جائے گا۔ (الامۃ والسیاسۃ)

مگر بعد میں معاویہ نے ایک بھی شرط پر عمل نہیں کیا اس شخص کا کوئی دین نہیں جو اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا۔
حضرت امام حسن علیہ السلام کو آپ کی بیوی جعدہ بنت اشعت نے زہر دیا جس سے آپ کی شہادت 28 صفر 50 ہجری کو ہوئی۔ جعدہ کی ماں ام فروہ ابوبکر بن ابی قحافہ کی بہن تھی۔ جعدہ کے بھائی کا نام محمد بن اشعت اور باپ کا نام اشعت بن قیس تھا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اشعت بن قیس، امیر المومنین علی علیہ السلام کے قتل میں شریک تھا ( عبد الرحمن بن ملجم کا ساتھی تھا) اس کی بیٹی جعدہ بنت اشعت امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا اور اس کا بیٹا محمد بن اشعت امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک رہا۔
آپ کے خطبات اور ارشادات کا ایک مجموعہ صحیفہ الحسن کے نام سے موجود ہے۔




Innocent Fourth Imam Second Hazrat Imam Hassan (as) Name: Hassan (as) Popular Title: Mujtaba, Sibt Akbar Surname: Abu Muhammad Date of Birth: 15 Ramadan 3 Hijri Parents: Hazrat Imam Ali (as), Hazrat Fatima Zahra Place of Birth: Medina Date of Martyrdom: 28 Safar 50 AH Cause of Martyrdom: You were poisoned by Jada Bint Ishaat Cursed Omar Mubarak: 47 years in the Holy Shrine: Janat Al-Baqi is in the place of Martyrdom: Medina Life Periods: 1. He has been training under the Holy Prophet (PBUH) for 8 years. 37 years with his father Grami 3. Your Imamate period is ten years

Introduction Your name is Hassan which means Shabar in Hebrew. Your surname is Abu Muhammad and your titles are Taqi, Wali, Sayyid, Sibt Rasool, Zaki. You were born on the 15th of Ramadan in Madinah Hazrat Muhammad Mustafa (PBUH) was the ruler of Yazd in Iran, Rome, Iraq and Syria, Caesar Rome and Najasi was the king of Africa. Seven years and seven months with Nana Muhammad Mustafa (PBUH) and 37 years with his father Ali Murtaza including the shadow of compassion of the Prophet (PBUH), after the martyrdom of Ali for about 10 years (9 years and 7 months) and his period of Imamate 9 years 7 months. He married 9 women: Hazrat Umm Farwah 2 Hazrat Khula Bint Manzoor Farazi 3. Hazrat Umm Bashir bint Abi Masood 4. Hazrat Zan Saqifa 5. Hazrat Ramla 6. Hazrat Umm Al-Hassan 7 Hazrat Bint Amr Al-Qais 8. Jeddah Bint Ishaat 9. Hazrat Umm Ishaq bint Talha has 15 children, 8 sons and 7 daughters whose names are as follows:

1. Abdullah bin Hassan 2. Umar bin Hassan 3. Qasim bin Hassan 4. Abdul Rahman bin Hassan (the mother of these four was Umm Walid) Zaid bin Hassan 6. Umm Al-Hassan Bint Hassan 7 Umm Al-Hussein bint Hassan (The mother of these three was Umm Bashir bint Abu Masood bin Aqaba bin Thalaba Hazraji) Hassan bin Hassan (His mother was Khula bint Manzoor Farazi) Hussain bin Hassan (title of Athar) Talha bin Hassan 11. Fatima bint Hassan (her mother was Umm Ishaq bint Talha bin Obaidullah) Umm Abdullah bint Hassan 13. Fatima bint Hassan 14. Umm Salma bint Hassan 15. Raqiyah Bint Hassan



The most important event in the life of Hazrat Imam Hassan (as) was to reconcile with Amir Sham Muawiyah. Through these terms of peace, the character of the Emir of Syria and the reality of this Islam were recorded in Islamic history. The terms of this letter are as follows: Amir al-mu'minin Ali (peace and blessings of Allaah be upon him) should be subjected to all kinds of insults. The Shiites of Imam Ali (as) should be given peace and they will not be harmed in any way (this is also in Tabari). Every rightful person will be given his right. The government will remain in the hands of Muawiyah, provided that he follows the Book of Allah and the Sunnah of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Mu'awiyah will not call himself Amir al-mu'minin. The treasury of Kufa will remain in the hands of Imam Hassan (as). Imam Hassan, Imam Hussain, and the family of Ahl al-Bayt will not be harmed in any way. Muawiyah will not have the right to nominate anyone as Crown Prince. Muawiyah will not have evidence. Muawiyah will pay one million dirhams annually. Tributes of Ahwaz, Jang-e-Jamal, and Jang-e-Safin will be given to the descendants of the slain. (الامۃ والسياسۃ)
But later Muawiyah did not fulfill a single condition. A person who does not fulfill his promises has no religion. Hazrat Imam Hassan (as) was poisoned by his wife Jida bint Ash'at which led to his martyrdom on 28 Safar 50 AH. Jeddah's mother was the sister of Umm Farwah Abu Bakr ibn Abi Qahafa. Jeddah's brother's name was Muhammad bin Ash'at and his father's name was Ash'at bin Qais. Imam Ja'far al-Sadiq (as) said: Ash'at ibn Qais was involved in the assassination of Amir al-mu'minin Ali (as) (was a companion of 'Abd al-Rahman ibn Muljam). Ishaat participated in the assassination of Imam Hussain (as). There is a collection of your sermons and instructions called Sahifa Al-Hasan.






Wednesday, 28 October 2020

Innocent Third Imam First Imam Hazrat Ali (as) Name: Ali (as) Popular Title: Amir al-

Pegham Nijat

Innocent Third Imam First Imam Hazrat Ali (as) Name: Ali (as) Popular Title: Amir al-



معصوم سوم امام اول

حضرت علی علیہ السلام

نام: 
علی ( علیہ السلام )

مشہور لقب:
امیر المومنین، اسد اللہ

کنیت:
ابوالحسن

والدین کرام:
حضرت ابو طالب علیہ السّلام اور حضرت فاطمہ بنت اسد

جائے ولادت:
مکہ معظمہ ( خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے)

تاریخ ولادت:
13 رجب المرجب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعثت سے 10سال قبل 

خلافت کا دور:
4 سال 9 مہینے

امامت کی مدت:
30 سال

تاریخ شہادت:
19 رمضان المبارک کو آپ زخمی ہوئے اور 21 رمضان کو شہادت پائی۔

عمر مبارک:
63 سال

جائے شہادت:
مسجد کوفہ

روضہ مبارک:
نجف اشرف میں مرجع خلائق ہے

زندگی کے ادوار:
1۔ پچپن کا زمانہ 10 سال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وابستگی 23 سال
2۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد 25 سال اور آپ کے خلافت کا زمانہ 4 سال 9 مہینے۔
تعارف

حضرت علی علیہ السلام نے 13 رجب المرجب 30 عام الفیل کو خانہ کعبہ میں ولادت پائی آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ بنت اسد اور والد گرامی کا نام ابو طالب علیہ السّلام ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سگے چچا ہیں حضرت علی علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر سرپرستی تربیت پائی آپ کی زندگی کے پانچ ادوار ہیں:
1۔ ولادت سے لےکر بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک
2۔ بعث سے لےکر مدینہ ہجرت تک
3۔ مدینہ ہجرت سے لیکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک 
4۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے لیکر اپنی خلافت کے آغاز تک
5۔ آپ کی خلافت کا دور

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت علی علیہ السلام کی عمر 10سال تھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بعثت سے قبل ہر سال ایک مہینے تک غار حرا میں اپنی عبادت میں مصروف رہتے تھے اسی دوران کا ذکر کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبے میں کہا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں عبادت میں مصروف ہوتے ہیں میرے اور حضرت خدیجہ کے علاوہ اور کوئی ان کے پاس نہیں جاسکتا تھا جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تھی تو میں شیطان کے رونے کی آواز سنتا تھا۔
آپ کا نام علی اور آپ کی کنیت ابو الحسن اور آپ کے القاب حیدر، امیر المومنین، صدیق اکبر، سردار اولیاء، اسد اللہ، سیف اللہ، اور یعسوب الدین ہیں۔
آپ نے سات خواتین سے شادی کی۔
1۔ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
2۔ حضرت خولہ بنت حنفیہ
3۔ حضرت ام حبیب بنت ربیعہ
4۔ ام البنین فاطمہ کلابیہ
5۔ لیلی بنت مسعود دارمیہ
6۔ حضرت اسماء بنت عمیس
7۔ حضرت ام سعید بنت عروہ بنت مسعود ثقفی
ازواج مطہرات کی فہرست کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان تمام ازواج مطہرات میں سے کسی کا مقام و مرتبہ حضرت فاطمہ زہرا کے برابر نہیں جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ کبری کی زندگی میں کوئی دوسری شادی نہیں کی اسی طرح حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہرہ کی موجودگی میں کوئی دوسری شادی نہیں کی۔
شیخ مفید علیہ رحمۃ نے آپ کی اولاد کی تعداد 27بتائی ہے جبکہ بعض مورخین نے آپ کی اولاد کی تعداد 36بتائی ہے۔
1۔ حضرت امام حسن علیہ السلام
2۔ حضرت امام حسین علیہ السلام
3۔ حضرت زینب
4۔ حضرت ام کلثوم
5۔ حضرت محسن
ان حضرات کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ زہرہ ہے حضرت زینب کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوئی اور آپ کے دو فرزند عون و محمد کربلا میں شہید ہوئے اور جناب ام کلثوم کا نکاح محمد بن جعفر طیار سے ہوا اور ان کی اولاد نہیں ہوئی۔
6۔ محمد (ان کی والدہ خولہ حنفیہ تھی اسی لیے ان کو محمد حنفیہ بھی کہتے ہیں)
7۔ عمرو 
8۔ رقیہ کبری (ان دونوں کی والدہ ام حبیب بنت ربیعہ تھیں)
9۔ حضرت عباس
10۔ جعفر
11۔ عثمان
12۔ عبداللہ اکبر
ان چاروں حضرات کی والدہ فاطمہ کلابیہ حضرت ام البنین تھیں)
13۔ محمد اصغر
14۔ عبداللہ
(ان دونوں کی والدہ حضرت لیلیٰ بنت مسعود دارمیہ تھیں)
15۔ یحییٰ
(آپ کی والدہ حضرت اسماء بنت عمیس تھیں)
16۔ ام محسن
17۔ رملہ کبری
(ان دونوں کی کی والدہ ام شعیب مخزومہ تھیں)
18۔ نفیسہ
19۔ زینب صغریٰ
20۔ رقیہ کبری
(ان تینوں کی والدہ ابن شہر آشوب کے مطابق ام سعید بنت عروہ تھیں)
21۔ ام ہانی
22۔ ام الکرام 
23۔ امامہ
24۔ ام سلمہ
25۔ میمونہ
26۔ خدیجہ
27۔ فاطمہ
حضرت امیر المومنین کی شہادت کے وقت صرف چار ازواج موجود تھی یعنی حضرت امامہ، حضرت اسماء بنت عمیس، حضرت لیلیٰ تمیمہ، اور حضرت ام البنین۔
آپ نے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد لوگوں کے اصرار پر خلافت قبول کی اور امیر شام معاویہ کو گورنری سے ہٹا دیا تو انہوں نے خلیفہ راشد سے بغاوت کی اور صفین کے میدان میں آپ کے ساتھ جنگ کی حضرت علی علیہ السلام مسلمانوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے منافقین اور خارجیوں کے ساتھ برسرپیکار ہے یعنی صفین، جمل، نہروان، کی جنگیں لڑیں جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے علی جس طرح میں نے تنزیل قرآن پر جنگ کی ہے اس طرح آپ تاویل قرآن پر جنگ کرو گے آپ نے 19 رمضان المبارک 40 ہجری کو مسجد کوفہ میں فجر کی نماز کے وقت ابن ملجم لعین کے ہاتھوں تلوار کا زخم کھا کر شہادت پائی۔

کسے رامیسرنہ شد این سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
آپ کے خطبات نہج البلاغہ کے نام سے فصاحت و بلاغت کا ایک نادر نمونہ نیز دوسری کتاب صحیفہ علویہ کے نام سے موجود ہے جو معروف الہیٰ کے حصول کے لیے ایک عظیم کتاب ہے آپ کے کلمات قصار پر مشتمل ایک کتاب غررالحکم بھی ہے۔


Innocent Third Imam First Imam Hazrat Ali (as) Name: Ali (as) Popular Title: Amir al-Mu'minin, Asadullah Surname: Abul Hassan Parents: Hazrat Abu Talib (as) and Hazrat Fatima bint Asad Place of Birth: Makkah (born inside the Kaaba) Date of Birth: 13 Rajab Al-Marjab Khilafah period 10 years before the Holy Prophet (PBUH): 4 years 9 months Imamate period: 30 years Date of Martyrdom ۔ Omar Mubarak: 63 years Place of Martyrdom: Masjid Kufa Roza Mubarak: Najaf Ashraf is the reference creation. Periods of life: 1. Fifty-five years 10 years Affiliation with the Holy Prophet (PBUH) 23 years 2. 25 years after the death of the Holy Prophet (sws) and the period of his caliphate is 4 years and 9 months.

Introduction Hazrat Ali (as) was born on 13 Rajab Al-Marjab 30 Aam Al-Fil in the Ka'bah. His mother's name is Fatima bint Asad and his father's name is Abu Talib (as) who is the real uncle of Hazrat Akram (as). Ali (as) received training under the tutelage of the Holy Prophet (sws). There are five periods of his life: From the birth to the resurrection of the Holy Prophet (sws) From Ba'ath to Madinah Hijrah 3. From the migration to Madinah until the death of the Holy Prophet (sws) From the death of the Holy Prophet (sws) to the beginning of his caliphate Ali (as) was 10 years old at the time of the revelation of the Prophet of Islam (PBUH). Before his revelation, Muhammad (PBUH) used to worship in the Sacred Cave for a month every year. Referring to the period, Hazrat Ali (as) said in his sermon that when the Holy Prophet (sws) was engaged in worship in the Cave of Hira, no one could go to him except me and Hazrat Khadijah when the Holy Prophet (sws) When the revelation was revealed to the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him), I could hear the cry of the Shaytaan. His name is Ali and his surname is Abu Al-Hassan and his titles are Haider, Amir-ul-Momineen, Siddiq Akbar, Sardar Awliya, Asadullah, Saifullah and Yasoob-ud-Din. He married seven women وآلہ وسلم 2۔ Hazrat Khula bint Hanafiya 3. Hazrat Umm Habib bint Rabia 4 Umm Al-Banin Fatima Kalabiya 5. Laila bint Masood Darmiya 6. Hazrat Asma bint Umays 7. Regarding the list of wives of Hazrat Umm Saeed bint Urwah bint Masood Saqafi, it is noteworthy that the status of any of these wives is not equal to that of Hazrat Fatima Zahra as the Holy Prophet (PBUH) said to Hazrat Khadija. No other marriage took place in the life of Kabra. Similarly, Hazrat Amir-ul-Momineen Ali (as) did not get married in the presence of Hazrat Fatima Zahra. Sheikh Mufid Alayh Rahmat has mentioned the number of his children as 27 while some historians have mentioned his children 
36 reported. 1. Hazrat Imam Hassan (as) Hazrat Imam Hussain (as) Hazrat Zainab 4 Hazrat Umm Kulthum 5. Hazrat Mohsin is the mother of Hazrat Fatima Zahra. Hazrat Zainab was married to Hazrat Abdullah bin Jafar Tayyar and his two sons Aun and Muhammad were martyred in Karbala. Did not happen 6. Muhammad (His mother was Khula Hanafi, that is why she is also called Muhammad Hanafi). Amr 8 Raqiyah Kubra (their mother was Umm Habib bint Rabia) Hazrat Abbas 10. Jafar 11 Osman 12 Abdullah Akbar was the mother of these four Hazrat Fatima Kalabia Hazrat Umm Al-Banin. Muhammad Asghar 14. Abdullah (Their mother was Hazrat Laila bint Masood Darmiya) Yahya (His mother was Hazrat Asma bint Umays) Umm Mohsin 17 Ramla Kabra (their mother was Umm Shoaib Makhzuma) 18. Fine 19. Zainab Sughra 20. Raqiyah Kubra (The mother of these three was Umm Saeed bint Arwa according to Ibn Shahar Ashob) Umm Hani 22. Umm Al-Karam 23. Imam 24. Umm Salma 25. میمونہ 26۔ Khadija 27. At the time of the martyrdom of Fatima Hazrat Amirul Momineen, there were only four wives, namely Hazrat Imam,

Asma bint Umays, Hazrat Laila Tamima, and Hazrat Umm Al-Banin. After the martyrdom of Hazrat Uthman, he accepted the caliphate at the insistence of the people and removed Muawiyah, the emir of Syria, from the governorship. Fighting the battles of Safin, Jamal, Nehruwan, about which the Holy Prophet (sws) had said: O Ali, as I have fought the revelation of the Qur'an, so do you You will fight on the interpretation of the Qur'an. There is a rare example of eloquence and eloquence in the name of your sermons Nahj al-Balaghah as well as another book called Sahifa Al-Alawiyah which is a great book for the attainment of the well-known divine. There is also a book containing short stories, Gharr al-Hakam


Monday, 26 October 2020

Imamat

Pegham Nijat
امامت 
نبوت کی مدت جب اختتام پذیر ہونے لگی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کے حکم سے اسلام کے تکمیل کا اعلان کیا اور ساتھ ہی منصب امامت کا بھی اعلان کیا اور غدیر خم کے مقام پر امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کیا اور فرمایا ” جس جس کا میں مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے“ کے ساتھ کیا گیا اور شریعت محمدیہ کی حفاظت کے لیے امامت کا اعلان ہوا اور خدا کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو پہلا امام مقرر کیا۔ اور بعد کے آئمہ کو ہر پہلے والے امام نے بعد والے امام کو مقرر کیا انہیں کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد میرے بارہ جانشین ہونگے جو سب کے سب قریش ہونگے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں نے بھی بعض دوسرے افراد کو خلیفہ بنایا تھا اگر انہیں اس حدیث کا مصداق قرار دیا جائے تو اس سلسلے کے مطابق اس فہرست میں یزید بھی شامل ہوتا ہے لیکن عمومی مسلمان صرف خلفاء راشدین کو برحق خلیفہ کے حیثیت سے پہچانتے ہیں لہذٰا ان کے نزدیک بارہ کی تعداد پوری نہیں ہوسکتی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم میں پہلا امام قرار دیا اور ہر امام نے اپنے بعد والے امام کو مقرر فرمایا جن کے لئے نص موجود تھی جو تفصیلی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے آئمہ اہلبیت کی فہرست یوں ہے:

1۔ حضرت امام علی علیہ السلام
2۔ حضرت امام حسن علیہ السلام
3۔ حضرت امام حسین علیہ السلام
4۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
5۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
6۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
7۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
8۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام
9۔ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
10۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام
11۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
12۔ حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام
یہاں یہ بات یاد رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت اور رہبری کو ہمیشہ کے لیے اپنے خاندان میں مستقل نہیں کیا تھا بلکہ صرف بارہ کی تعداد تک عبوری طور پر اہلبیت کے افراد کو معین کیا تھا جو آپ کے انقلاب کی روح سے پوری طرح واقف تھے دوسرے الفاظ میں اگر معاویہ کے بجائے حضرت علی علیہ السلام، یزید لعین کے بجائے حضرت امام حسین علیہ السلام، مروان کے بجائے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، عبد الملک کے بجائے حضرت محمد باقر علیہ السلام کے ہاتھوں میں اقتدار ہوتا تو عوام کو اسلام کی روح کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی یعنی مسلمانوں کا معاشرتی حقیقی طور پر اسلامی معاشرہ بن جاتا۔

English translate

When the period of Imamate of Prophethood was coming to an end, the Holy Prophet (sws) announced the completion of Islam by the command of God and at the same time announced the position of Imamate and the guardianship of Imam Ali (as) at Ghadir Khumm. He announced and said, "Whoever I am the master of, this Ali is his master." And the Imamate was announced for the protection of the Shari'ah of Muhammad, and by the command of God, the Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) Appointed the first Imam. And the later Imams were appointed by each of the previous Imams as the later Imams. Regarding them, the Holy Prophet (sws) had said that after me I will have twelve successors, all of whom will be Quraysh. The Holy Prophet (sws) Later people also made some other people caliphs. If they are considered to be the authority of this hadith, then according to this series, Yazid is also included in this list. According to him, the number of twelve cannot be fulfilled. The Holy Prophet (sws) declared Hazrat Ali (as) as the first Imam in Ghadir Khumm and each Imam appointed his successor Imam for whom there was a text which is seen in the detailed books. Here is the list of Imams of the Ahl al-Bayt:

1. Hazrat Imam Ali (as)
 
2. Hazrat Imam Hassan (as)

3. Hazrat Imam Hussain (as)

 4. Hazrat Imam Zain-ul-Abidin (as)

5. Hazrat Imam Muhammad Baqir (as)

6. Hazrat Imam Jafar Sadiq (as)

7. Hazrat Imam Musa Kazim (as)

 8. Hazrat Imam Ali Raza (as)

 9. Hazrat Imam Muhammad Taqi (as)

 10. Hazrat Imam Ali Naqi (as) 

11. Hazrat Imam Hassan Askari (as)

 12. Hazrat Imam Muhammad Mahdi (as)


It should be noted here that the Holy Prophet (sws) did not make Imamate and leadership permanent in his family forever, but only temporarily appointed twelve members of the Ahl al-Bayt who were in the spirit of his revolution. In other words, if Ali (as) instead of Muawiyah, Hazrat Imam Hussain (as) instead of Yazid-ul-Lain, Hazrat Imam Zain-ul-Abidin (as) instead of Marwan, and Hazrat Muhammad Baqir (as) instead of Abdul-Mulk Then it would be easier for the people to understand the spirit of Islam, that is, the society of Muslims would become a truly Islamic society.


Taruf Bi Bi Fatima Zahara

تعارف
حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا
نام:  
فاطمہ (سلام اللہ علیہا)

مشہور لقب:
 زہرا،صدیقہ،طاہرہ،بتول،راضیہ،مرضیہ

کنیت: 
ام الحسنین،ام ابیھا،ام الائمہ

والدین کرام: 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ کبری

جائے ولادت: 
مکہ معظمہ

تاریخ ولادت:
 روز جمعہ 20 جمادی الثانی بعثت سے 5 سال بعد 

ہجرت:
 8 سال کی عمر میں حضرت علیہ السّلام کے ساتھ ہجرت کی۔

شادی:
 مدینہ منورہ ہجرت کے دوسرے سال مدینے منورہ میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ شادی ہوئی

اولاد: 
حضرت امام حسن، حضرت امام حسین، حضرت زینب، حضرت ام کلثوم

جائے وفات:
مدینہ منورہ۔

آپ کے روضہ مبارک کے بارے میں تین احتمال ہیں:
1۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبر کے ساتھ
2۔ جنت البقیع میں
3۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور منبر کے درمیان۔

زندگی کے ادوار: 
پدر بزرگوار کی ساتھ 8سال
شوہر نامدار کے ساتھ 10سال

تعارف
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات کے بعد چند مہینے زندہ رہی جو سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے بہت اہم تھے۔
آپ کے والد گرامی کا نام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور والدہ گرامی کا نام خدیجہ الکبریٰ جن کا لقب طاہرہ تھا جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس زمانے کے معاشرے میں رہ کر اپنے کو صادق و امین پہچنوایا اسی طرح حضرت خدیجہ نے ایک ایسی پاکیزہ زندگی گزاری کہ قریش کے لوگوں نے آپ کو طاہرہ کا لقب دیا آپ ہی نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لاکر خانہ کعبہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضرت عباس سے روایت ہے کہ خانہ کعبہ میں ان تین افراد کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت خدیجہ اور حضرت علی علیہ السلام۔
حضرت فاطمتہ الزہرا نے بعثت کے پانچویں سال بیس جمادی الثانی کو مکے میں ولادت پائی۔ آپ نام فاطمہ رکھا گیا اور آپ کے القاب میں زہرا، راضیہ، مرضیہ، بضعۃ الرسول اور ام ابیہا۔ آپ کے دو بھائی قاسم اور عبداللہ تھے جو کمسنی میں ہی وفات پائی آپ سرکار دوعالم کی اکلوتی بیٹی تھیں حضرت زینب، حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ کے بارے میں اختلاف ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقد نکاح حضرت خدیجہ کبری کے ساتھ پچیس سال کی عمر میں بعثت سے 15سال پہلے ہوا اور پانچ سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی جبکہ ان تینوں بیٹیوں کا عقد بعثت سے پہلے عتبہ اور عتیبہ سے ہوا جو ابو لہب کے بیٹے تھے اور تیسری کا عقد ابو العاص سے ہوا تھا اب یہ بات نا ممکن اور بعید قیاس ہے کہ دس سال کے عرصے میں تینوں بیٹیاں پیدا بھی ہوں اور بڑی ہوکر ان کی شادی بھی ہوجائے جبکہ درمیان میں حضرت قاسم اور عبداللہ کی ولادت کا وقت رکھنا پڑے گا۔ پانچ برس کی عمر میں بعثت کے دسویں سال میں ماہ رمضان کی دس تاریخ کو حضرت خدیجہ کبری نے وفات پائی۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد دوسرا صدمہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا تھا آپ نے جنگ بدر کا معرکہ بھی دیکھا جنگ بدر کے بعد آپ کا عقد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ہوا۔ تین ہجری میں جنگ احد ہوئی جس میں حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے جسم پر زخم کھائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی زخمی ہو چکے تھے لیکن حضرت زہرا نے کبھی خوف و ہراس کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرہم پٹی بھی کی اور حضرت علی علیہ السلام کا زخموں کا علاج بھی کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کنیز آپ کو عطا فرمائی جس کا نام فضہ تھا نو ہجری میں نصاریٰ کے ساتھ مباہلے میں اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ موجود تھی 10 ہجری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد پہلا اور آخری حج انجام دیا واپسی پر غدیر خم کے مقام پر ولادت علی علیہ السلام کا اعلان ہوا۔ 
11 ہجری ماہ صفر کی 28 تاریخ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی آپ کی وفات کے بعد حضرت فاطمتہ الزہرا پر جو مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اسے آپ نے یوں بیان فرمایا: ” مجھ پر ایسے ایسے مصائب ٹوٹ پڑے کہ اگر یہ مصیبتیں روشن دنوں پر پڑیں کو کالی راتوں میں تبدیل ہو جاتے“ آپ کے حق فدک کو چھین لیا گیا اور علی کی ولایت سے انکار کیا گیا اور حضرت فاطمہ نے یہ تمام مظالم برداشت کیے۔
آپ کو خداوند عالم نے پانچ اولادیں عطا فرمائی
حضرت امام حسن علیہ السلام
حضرت امام حسین علیہ السلام
حضرت زینب
حضرت ام کلثوم
اور حضرت محسن 
جو احراق باب فاطمہ کے دوران ساقط ہوا۔ حضرت زینب کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی اور ان کے بھائی حضرت محمد بن جعفر سے حضرت ام کلثوم کی شادی ہوئی تھی۔ عام مسلمانوں نے ایک مغالطہ پیدا کیا اور حضرت ام کلثوم کی شادی حضرت عمر سے منسوب کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ان کی بیوہ حضرت اسماء بنت عمیس سے شادی کی جن کے ساتھ حضرت محمد بن ابی بکر اور ام کلثوم بنت ابی بکر حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں پرورش پانے لگے اور بعد میں اسی ام کلثوم سے جو حضرت ابوبکر کی بیٹی تھی حضرت عمر نے نکاح کیا جن سے ایک بیٹا زید بن عمر بن خطاب تھا اور یہ ام کلثوم حضرت علی علیہ السلام کی ربیبہ تھی ان کے بھائی محمد بن ابی بکر کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ محمد بن ابی بکر کے صلب سے میرا بیٹا ہے اسی طرح لوگوں نے نا واقفیت کی بنا پر ام کلثوم جو حضرت علی کی بیٹی قرار دیا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے (75یا90) دن بعد مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ خطبات صحیفہ زھراء کے نام سے عالم انسانیت کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ جو فصاحت و بلاغت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ آپ کے فلسفہ عبادت پر جو روشنی ڈالی ہے اپنی مثال آپ ہے۔



تعارف
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات کے بعد چند مہینے زندہ رہی جو سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے بہت اہم تھے۔
آپ کے والد گرامی کا نام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور والدہ گرامی کا نام خدیجہ الکبریٰ جن کا لقب طاہرہ تھا جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس زمانے کے معاشرے میں رہ کر اپنے کو صادق و امین پہچنوایا اسی طرح حضرت خدیجہ نے ایک ایسی پاکیزہ زندگی گزاری کہ قریش کے لوگوں نے آپ کو طاہرہ کا لقب دیا آپ ہی نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لاکر خانہ کعبہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضرت عباس سے روایت ہے کہ خانہ کعبہ میں ان تین افراد کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت خدیجہ اور حضرت علی علیہ السلام۔
حضرت فاطمتہ الزہرا نے بعثت کے پانچویں سال بیس جمادی الثانی کو مکے میں ولادت پائی۔ آپ نام فاطمہ رکھا گیا اور آپ کے القاب میں زہرا، راضیہ، مرضیہ، بضعۃ الرسول اور ام ابیہا۔ آپ کے دو بھائی قاسم اور عبداللہ تھے جو کمسنی میں ہی وفات پائی آپ سرکار دوعالم کی اکلوتی بیٹی تھیں حضرت زینب، حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ کے بارے میں اختلاف ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقد نکاح حضرت خدیجہ کبری کے ساتھ پچیس سال کی عمر میں بعثت سے 15سال پہلے ہوا اور پانچ سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی جبکہ ان تینوں بیٹیوں کا عقد بعثت سے پہلے عتبہ اور عتیبہ سے ہوا جو ابو لہب کے بیٹے تھے اور تیسری کا عقد ابو العاص سے ہوا تھا اب یہ بات نا ممکن اور بعید قیاس ہے کہ دس سال کے عرصے میں تینوں بیٹیاں پیدا بھی ہوں اور بڑی ہوکر ان کی شادی بھی ہوجائے جبکہ درمیان میں حضرت قاسم اور عبداللہ کی ولادت کا وقت رکھنا پڑے گا۔ پانچ برس کی عمر میں بعثت کے دسویں سال میں ماہ رمضان کی دس تاریخ کو حضرت خدیجہ کبری نے وفات پائی۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد دوسرا صدمہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا تھا آپ نے جنگ بدر کا معرکہ بھی دیکھا جنگ بدر کے بعد آپ کا عقد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ہوا۔ تین ہجری میں جنگ احد ہوئی جس میں حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے جسم پر زخم کھائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی زخمی ہو چکے تھے لیکن حضرت زہرا نے کبھی خوف و ہراس کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرہم پٹی بھی کی اور حضرت علی علیہ السلام کا زخموں کا علاج بھی کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کنیز آپ کو عطا فرمائی جس کا نام فضہ تھا نو ہجری میں نصاریٰ کے ساتھ مباہلے میں اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ موجود تھی 10 ہجری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد پہلا اور آخری حج انجام دیا واپسی پر غدیر خم کے مقام پر ولادت علی علیہ السلام کا اعلان ہوا۔ 

Introduction The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) lived for a few months after his death, which was very important politically and socially. His father's name was Hazrat Muhammad (peace be upon him) and his mother's name was Khadijah Al-Kubra whose title was Tahira. Hazrat Khadija lived such a pious life that the people of Quraysh gave her the title of Tahira. She was the first to believe in the Holy Prophet (PBUH) and prayed with the Holy Prophet (PBUH) in the Ka'bah. It is narrated from Hazrat Abbas that these three people were seen praying in the Ka'bah. The Holy Prophet (sws), Hazrat Khadija and Hazrat Ali (sws) were seen. Hazrat Fatima Al-Zahra was born in Mecca on the 20th of Jamadi Al-Thani in the fifth year of her enlightenment. She was named Fatima and her titles were Zahra, Razia, Mardiya, Bazat-ul-Rasool and Umm Abiha. He had two brothers Qasim and Abdullah who died in Kamsani. He was the only daughter of Sarkar Duaalam. There is a difference of opinion about Hazrat Zainab, Hazrat Umm Kulthum and Hazrat Ruqiya At the age of twenty-five, he was born 15 years before the Apostleship and had no children for five years, while the three daughters were married before the Apostleship to Utbah and Atibah, who were the sons of Abu Lahab It is impossible and far-fetched to have three daughters in a period of ten years and to get married when they grow up, while in between will have to set the time for the birth of Hazrat Qasim and Abdullah. Hazrat Khadija Kabra passed away at the age of five on the tenth day of the month of Ramadan in the tenth year of her enlightenment. The second shock after the death of Hazrat Khadija was the migration to Madinah. You also saw the battle of Badr. After the battle of Badr, you got married to Amir al-mu'minin Hazrat Ali. The battle of Uhud took place in 3 AH in which Hazrat Ali (as) while protecting the Holy Prophet (sws) got wounds on his body and the Holy Prophet (sws) was also wounded but Hazrat Zahra (sws) never panicked. He did not demonstrate but also applied ointment to the Holy Prophet (sws) and treated the wounds of Hazrat Ali (sws). The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) gave you a slave girl whose name was Fiza. She was present with her father in a dispute with the Christians in 9 AH. In 10 AH, the Holy Prophet On his return from the last Hajj, the birth of Ali (as) was announced at Ghadir Khumm.
The Holy Prophet (sws) passed away on the 28th of Safar, 11 AH. He described the mountain of misery that fell on Hazrat Fatima Al-Zahra after his death as follows: “Such misfortunes befell me that if this Troubles would fall on bright days and turn into dark nights. His right to Fadak was taken away and Ali's guardianship was denied and Hazrat Fatima endured all these atrocities. God Almighty gave you five children, Hazrat Imam Hassan (as), Hazrat Imam Hussain (as), Hazrat Zainab (as), Hazrat Umm Kulthum (as) and Hazrat Mohsin (as). Hazrat Zainab was married to Hazrat Abdullah bin Jafar and her brother Hazrat Muhammad bin Jafar was married to Hazrat Umm Kulthum. Ordinary Muslims made a mistake and attributed the marriage of Hazrat Umm Kulthum to Hazrat Umar while the fact is that after the death of Hazrat Abu Bakr, Hazrat Ali (as) married his widow Hazrat Asma bint Umays with whom Hazrat Muhammad bin Abi Bakr and Umm Kulthum bint Abi Bakr were brought up in the house of Hazrat Ali (as) and later Hazrat Umar married the same Umm Kulthum who was the daughter of Hazrat Abu Bakr and they had a son named Zaid bin Umar bin Khattab Hazrat Ali (as) had a granddaughter. Regarding his brother Muhammad ibn Abi Bakr, Hazrat Ali (as) said that Muhammad ibn Abi Bakr is my son from the cross. Declared He died in Madinah 75 (90) days after the death of the Holy Prophet (sws). Your sermons are in the name of Sahifa Zahra to guide the world of humanity. Which is a sea of ​​eloquence and eloquence. Your philosophy of worship is exemplary



Saturday, 24 October 2020

قرآن مجید کا تعارفTaruf r Quran Majeed





 قرآن کریم


قرآن کریم اللّٰہ کا کلام ہے جسے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر 23 برس کی مدت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل فرمایا اور اس کےامین بندے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اسے معجزہ کی حیثیت سے پہچنوایا آج تک قرآن فاتوا بسورۃ من مثلھا کی صدا دے رہا ہے اگر تم قرآن کو معجزہ نہیں مانتے ہو تو اس کی جیسی ایک ہی سورہ بنا کر لاؤ۔ قرآن کریم کی حفاظت کی زمہ داری خداوند عالم نے خود اپنے زمہ لےلی ہے۔ لہٰذا اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ اس قرآن کریم میں کوئی تحریف ہوئی ہے تو ایسا شخص قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتا چونکہ پہلی آسمانی کتب میں علماء یہود ونصاریٰ نے تحریف کیا تھا اس لیے اس سے بچانے کے لئے خدا وند عالم نے اس کی حفاظت کی زمہ داری خود لےلی تحریف سے مراد قرآن میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی یا تبدیلی مراد ہے۔ جس سے قرآن کریم محفوظ ہے آج جو قرآن ہمارے درمیان موجود ہے جو الحمد سے ہوکر والناس پر ختم ہوتا ہے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہمارے ہاتھوں میں سے آیۃ الخوئی کی تحقیق کے مطابق قرآن کی موجودہ ترتیب بھی حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دی ہے کسی بھی آیت کے نازل ہونے پر کاتب کو بلا کر حکم فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں آیت کے بعد لکھنا یوں آج کے موجودہ ترتیب عمل میں آئی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی ان کتب میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے جو کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتب مانی جاتی ہے لیکن ہمیں حضرات اہلبیت نے ایک معیار دیا ہے اور روایات و احادیث کو جانچنے کا میزان یہ قرار دیا ہے کہ احادیث و روایات کو قرآن کریم سے موازنہ کرو اگر قرآن کے مطابق ہے تو درست ہے اگر قرآن کے مخالف ہے تو اسے دیوار پر مارو یعنی اسے رد کرو۔ حضرات معصومین علیہم السلام نے قرآن سے وابستہ رہنے کی تاکید فرمائی کم از دس آیات سے پچاس آیتوں کی تلاوت تک روزانہ تلاوت کی سفارش کی ہے اور فرمایا جو شخص ایک دن میں دس آیتوں کی تلاوت کرےگا اسے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص ایک دن میں پچاس آیتوں کی تلاوت کرےگا اسے ذاکرین بندوں میں شمار کیا جائیگا۔ کسی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا فرزند رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی کتاب سو دو سو سال کے بعد پرانی قرار پاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے لیتی ہے مگر قرآن کے بارے میں ایسا نہیں گزرتے زمانے کے ساتھ اس کی تازگی اور جدت میں اضافہ ہوجاتا ہے آپ نے فرمایا یہ اس لیئے ہے کہ قرآن کریم کو کسی خاص زمانے یا علاقے کے لئے نازل نہیں کیا بلکہ قیامت کے آنے والے زمانے تک رہنما ہے اس لیے اس کلام کے متکلم نے اس کی 

تازگی برقرار رکھنے کا انتظام کیا ہے۔



The Holy Qur'an is the word of the Holy Qur'an which was revealed to His last Prophet Muhammad Mustafa (peace be upon him) for the guidance of His servants through Gabriel (peace be upon him) over a period of 23 years. Wislam described it as a miracle. To this day, the Qur'an is sounding like a fatwa and a surah like this. If you do not believe in the Qur'an as a miracle, then make a single surah like it. God Almighty has taken the responsibility of protecting the Holy Qur'an. Therefore, if someone says that there is any distortion in the Holy Qur'an, then such a person does not believe in the Holy Qur'an because the scholars of Judaism and Christianity distorted it in the first heavenly books. Responsibility for protection refers to any distortion or alteration in the Qur'an. From which the Holy Qur'an is safe. The Qur'an which is present among us today, which ends with praise and obedience to the people, is safe from all kinds of distortions. According to the research of Ayat-ul-Khoi from our hands, He used to call the scribe on the revelation of any verse and order him to write this verse after such and such a verse. Unfortunately, this is also found in the books of the Muslims which are considered to be the most correct books after the Book of God, but the Ahl al-Bayt has given us a standard and the scale of examining the traditions and hadiths is that the hadiths and traditions Compare it with the Holy Qur'an. If it is in accordance with the Qur'an, then it is correct. If it is against the Qur'an, then hit it on the wall, that is, reject it. The Infallibles (peace be upon them) insisted on adhering to the Qur'an and recommended daily recitation of at least ten verses to fifty verses and said that whoever recites ten verses in one day will not be written in heedlessness and whoever He will recite fifty verses in one day and he will be counted among the dhikr servants. Someone asked Imam Ja'far Sadiq (as), son of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). It is a fact that any book becomes obsolete after one hundred and two hundred years and is replaced by another book except the Qur'aan. I do not think so. With the passage of time, its freshness and innovation increases. You said that it is because the Holy Qur'an was not revealed for a particular time or region, but it is a guide to the time to come. The speaker has managed to keep it fresh.



Friday, 23 October 2020

Ahelbait e Rasool

 اھلبیت علیھم السلام


حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے وفات کے ایک وقت مشہور حدیث ارشاد فرمائی کہ میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللّٰہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اہلبیت۔ اگر تم ان دونوں سے وابستگی رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہونگے۔ میری عترت یعنی اہلبیت اور قرآن ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کے حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔ پس تم دیکھو کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔

اس حدیث کے مطابق رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صحیح پیروی اہلبیت کی پیروی میں پوشیدہ ہے اہلبیت کے لفظی معنی ہے گھر والے لیکن اسلامی اصطلاح میں اہلبیت سے مراد وہ پانچ افراد ہیں جو چادر کے نیچے پیغمبر کے حکم سے جمع ہوئے تو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی تھی کہ:

ترجمہ : میرے معبود یہی میرے اہلبیت ہیں میرے خاص ہیں میری حمایت کرنے والے ان کا گوشت میرا گوشت اور ان خون میرا خون ہے۔ کساء کے اس واقعہ کے بعد عام مسلمانوں کے نزدیک اہلبیت سے مراد یہ پانچ افراد ہیں جو اس چادر کے نیچے تھے ان کو پنجتن پاک اور اہل کساء بھی کہتے ہیں کیونکہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی یہ دعا دیکھ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ نے آکر اجازت چاہی تھی کہ اللّٰہ کے حبیب مجھے بھی چادر کے نیچے آنے کی اجازت دے دیں لیکن حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں چادر کے نیچے آنے کی اجازت نہیں دی۔


ام سلمہ تیرا انجام ہے بہتر لیکن

آگئے چادر تطہیر میں آنے والے


اصطلاحی اور لغوی معنی سمجھنے کے لیے ان مثالوں پر غور کریں صلوٰۃ کے عربی میں لغوی معنی دعا کی ہے صوم کی معنی رک جانے کی ہے اور حج کی معنی اردہ کرنے کی ہے لیکن اصطلاح میں نو چیزوں کا پےدرپے خاص ترتیب سے بجالانے کا نام صلوٰۃ ہے جسے ہم عجمی زبان میں نماز کہتے ہیں۔ ماہ رمضان کے مہینے میں اذان فجر سے لیکر مغرب ہونے تک نو چیزوں سے اپنے آپ کو روکنے کا نام صوم ہے جسے ہم روزہ کے نام سے جانتے ہیں اسی طرح اصطلاح میں حج کے معنی خانہ کعبہ میں جاکر مقررہ مناسک بجالانے کا نام حج ہے اس طرح اہلبیت کے لغوی معنی الگ ہے اور اصطلاحی معنی میں صرف وہی افراد ہیں جو چادر کے نیچے تھے اور جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی۔ 

چہاردہ معصومین علیہم السلام سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم، حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا، اور بارہ امام مراد ہیں ان میں سے پیغمبر اکرم 



صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا، حضرت علی علیہ السلام اور حضرات حسنین علیھم السّلام چادر کے نیچے آیت تطہیر کے مصداق ہیں اور معصوم ہیں اور بارہ آئمہ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نص کے مطابق معصوم پہچنوائے گئے ہیں۔ 

حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور حدیث بھی ارشاد فرمائی کہ میں تمہارے درمیان اللّٰہ کی کتاب اور سنت چھڑے جارہاہوں تم ان دونوں سے تمسک رکھنا اور رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی سنت کو بیان کرنے والے اہلبیت ہی ہیں کیونکہ گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں کہ گھر میں کیا ہورہاہے لہٰذا جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہلبیت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں وہی کامیاب ہیں۔

Thursday, 22 October 2020

Taruf Ashab e Rasool




 اصحاب رسول


جب حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا نام آتا ہے تو آپ کے ساتھ دو اور اصطلاحی نام ہمارے نظروں کے سامنے آتے ہیں یعنی آپ کےاصحاب اور آپ کی اہلبیت۔


صحابہ است یاران و آل اھلبیت

کہ اسلام دین شد ازیشان بپا


اصحاب سے مراد آپ کے ساتھی اور آل سے مراد آپ کے اہلبیت ہیں۔ دین اسلام انہی دونوں پلرز کے ذریعے ہی دنیا میں قائم ہوگیا۔

صحابی کے معنی ساتھی ہیں لیکن اسلامی اصطلاح میں صحابی سے مراد وہ شخص ہے جس نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ پر ایمان لایا آپ کا ساتھ دیا اور ایمان پر ہی وفات ہوگئی ہو اصحاب کے بھی درجات ہیں ان میں سے:

1۔ سابقین اولین

2۔ مہاجرین اولین

3۔ عشرہ مبشرہ

4۔ اور طلقاء کی اصطلاحات اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں جن کے ذریعے صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے۔ اصحاب رسول میں سب سے نچلے درجہ طلقاء کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان کے سابقہ جرائم کو معاف کر تے ہوئے فرمایا آج کے دن تمہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی آج کے دن سے تم آزاد ہو۔ ان لوگوں میں ابو سفیان اور ان کے ہمنوا سر فہرست ہیں ان لوگوں کی اکثر زندگی اسلام کی مخالفت میں گزری تھی اور آخری مرحلے میں اسلام قبول کر کے اپنی جان تو بچالی لیکن اسلام کی حقیقی روح سے آشنا نہ ہوسکے۔ ابوسفیان کے بیٹے معاویہ نے خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کی اور اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کے سروں پر مسلط کیا اور مسلمانوں کی خلافت راشدہ کا گلا گھونٹ کر ملوکیت کی داغ بیل ڈال دی اور ان کے بیٹے یزید نے جب اپنے آپ کو مطلق العنان دیکھا تو نواسہ رسول حسین ابنِ علی کے قتل کا حکم دیا جس پر عملدرآمد بھی ہوگیا اور عمر ابن سعد یزید کی طرف سے اس فوج کا سپہ سالار تھا عمر سعد نے امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے حسینی لشکر کی طرف تیر پھینکا اور کہا لوگو! گواہ رہنا کہ میں سب سے پہلا تیر پھینک رہا ہوں۔ ایک عجیب اتفاق ہے اسی عمر بن سعد کے والد حضرت سعد بن ابی وقاص تھے جنہوں نے اسلام اور رسول کی حمایت کرتے ہوئے کافروں کے لشکر کی طرف سب سے پہلے تیر پھینکا تھا۔ 

آج ملوکیت نے مسلمانوں کی اتنی دنیا بدل دی تھی کہ ان کا بیٹا عمر بن سعد حسین علیہ السلام کی طرف تیر اندازی کر رہا تھا اور لوگوں کو گواہ بنا رہا تھا کہ میں نے سب سے پہلے تیر پھینکا ہے۔ حسین علیہ السلام وہ جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسن و حسین علیہ السلام جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ حسن و حسین علیہم السلام امام ہیں چاہے قیام کریں یا بیٹھے رہیں۔

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی صحابی کو بلند مقام دینا چاہا تو فرمایا کہ سلمان تو ہم اہلبیت میں سے ہیں۔

یعنی حضرت سلمان فارسی صحابی تو تھے ہی جب حضرت سلمان فارسی کے خلاف شکایت کی تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم سلمان فارسی کی شکایت کرتے ہو سلمان فارسی تو ہم اہلبیت میں سے ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی جملے سے اصحاب اور اہلبیت کے مقام کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔

Solangi

Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud-Din Karam: Imam Zain-ul-Abidin (peace be upon him) and Hazrat Fatima bint Imam

Innocent 7th Imam 5th Hazrat Muhammad Baqir (peace be upon him) Name: Muhammad Famous Title: Baqir Al-Uloom Surname: Abu Ja'far Walid-ud...

No comments:

Post a Comment

Mobashir Mehdi Solangi